Posts

Showing posts from October, 2023

دستک آدھی رات کی

میرے والد کے ہاں شادی کے دس برس بعد تک اولاد نہ ہوئی۔ ڈاکٹر حکیم، پیر، فقیر، دوا دارو اور تعویذ گنڈے آزما لئے لیکن ثمر مراد جھولی میں نہ آیا۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر ماں باپ صبر کر کے بیٹھ گئے کہ بہت سوں کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ، آخر وہ بھی اس دنیا میں جی رہے ہیں۔ جینا لازم تھا کہ جب تک زندگی کے دن پورے نہ ہوں، انسان کو اس جہان سے نجات نہیں ملتی۔ اپنی زندگی پر اختیار ہے اور نہ موت پر بس چلتا ہے۔ یہ اللہ کی مرضی ہے اور اس کے اختیار میں ہے جب تک چاہے چلائے ، جب چاہے حیات کا اختام کر دے۔ دنیا عجیب و غریب واقعات سے پٹی پڑی ہے۔ ایسے میں ایک واقعہ میرے والدین کے ساتھ بھی پیش آیا ۔ شادی کے گیارہویں برس ایک روز آدھی رات کو گھر کے دروازے پر کسی نے دستک دی۔ والد صاحب کی اس دن طبیعت کچھ ٹھیک نہ تھی، انہیں کھانسی اٹھ رہی تھی، بار بار کھانے سے نیند اچٹ گئی تھی اور ان کی کھانسی کی وجہ سے میری والدہ بھی سو نہ پارہی تھیں۔ غرض کہ اس رات دونوں ہی جاگ رہے تھے۔ جب دو تین بار دستک ہوئی تو والدہ نے شوہر سے کہا۔ ذرا دیکھئے آدھی رات کے سے اس وقت کون آیا ہے. خدا خیر کرے۔ والد صاحب دروازے پر پہنچے اور پوچ...

سچی راہ

ہم پشاور کے نزدیک ایک گائوں میں رہا کرتے تھے۔ والد صاحب کی بازار میں ایک چھوٹی سی دکان تھی اور وہ چپلی کباب بنا کر اپنے کنبے کا پیٹ پال رہے تھے۔ اس طرح غربت میں بھی دو وقت کی روٹی میسر تھی اور ہم سکون کی زندگی گزار رہے تھے۔ ہم تین بہنیں تھیں۔ میں سب سے چھوٹی تھی لہذا اپنے بھائی شعیب کے ساتھ بکریوں کا ریوڑ چرانے جایا کرتی تھی۔ بڑا بھائی ایوب اسکول جاتا تھا۔ اسے پڑھائی میں دلچسپی تھی ۔ ان دنوں میٹرک کا طالب علم تھا مگر شعیب بھائی کو تعلیم سے دلچسپی نہ تھی۔ پانچویں تک اس نے میرے ساتھ پڑھا، پھر جب میں نے اسکول چھوڑا تو اس نے بھی چھوڑ دیا۔ میرا یہ بھائی لاابالی اور شروع سے اپنی آرزووں کا غلام تھا۔ جب وہ بڑا ہوا تو زیادہ خود سر ہو گیا ۔ نتائج کی پروا کیے بغیر وہ کام کر دیا کرتا، اس وجہ سے معمولی باتوں پر اس کا محلے کے لڑکوں سے جھگـڑا ہو جاتا ۔ محلے دار والد صاحب کی عزت کرتے تھے ۔ ان کے کہنے سننے پر درگزر کر جاتے اور شعیب کو معافی مل جاتی تھی۔ ہماری بکریوں کا ریوڑ خاصا بڑا تھا۔ اکثر میرا چھوٹا بھائی بی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ ایک روز بهائی بکریاں چرانے گیا۔ اماں نے مجھے کچھ پہاڑی جڑی بوٹیاں...

انتظار کی اذیت

میٹرک پاس کرنے کے بعد میں کالج میں داخلے کے لئے جتن کرنے لگی، لیکن والد صاحب میری شادی کرنا چاہتے تھے لہذا آگے پڑھنے کی اجازت نہ دی۔ یونہی سال گزر گیا، شادی ہوئی اور نہ داخلہ لیا۔ اب والد کو بھی احساس ہوا کہ شادی تو جب ہی ہو گی جب نصیب کا تالا کھلے گا۔ تب تک لڑکی پڑھ لے گی تو آگے تعلیم اس کے کام آئے گی۔ نئے سال انہوں نے کہا کہ بیٹی آگے پڑھنا چاہتی ہو تو داخلہ لے لو ، اگر اس دوران کوئی اچھا رشتہ آگیا تو پھر تعلیم کو خیر باد کہہ دینا۔ میں نے یہ بھی منظور کر لیا کہ آگے جو قسمت ہیں ہو گا، دیکھا جائے گا۔ میں بہت جلد گھل مل جانے والی، ہنس مکھ لڑکی تھی۔ چند دنوں میں کالج میں کئی لڑکیاں سہیلیاں بن گئیں۔ وجہ یہ تھی کہ ہر وقت ان کو ہنساتی رہتی تھی، تبھی وہ مجھے پسند کرتی تھیں تاہم میں نے کبھی کسی پر اپنے دکھ ظاہر نہ کئے۔ کسی دن ذرا خاموش بیٹھ جاتی تو ان کو فکر ہو جاتی کہ آج مجھے کیا ہوا ہے ، پھر سب لڑکیاں میرے پیچھے پڑ جاتیں کہ کیا بات ہے، تم چپ کیوں ہو ؟ کیا گھر میں کوئی بات ہوئی ہے۔ تب میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہنس دیتی تھی۔ دن نہایت اچھے گزر رہے تھے۔ میں بس میں کالج جاتی تھی۔ اگر بس میں بیٹھنے ک...