دستک آدھی رات کی
میرے والد کے ہاں شادی کے دس برس بعد تک اولاد نہ ہوئی۔ ڈاکٹر حکیم، پیر، فقیر، دوا دارو اور تعویذ گنڈے آزما لئے لیکن ثمر مراد جھولی میں نہ آیا۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر ماں باپ صبر کر کے بیٹھ گئے کہ بہت سوں کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ، آخر وہ بھی اس دنیا میں جی رہے ہیں۔ جینا لازم تھا کہ جب تک زندگی کے دن پورے نہ ہوں، انسان کو اس جہان سے نجات نہیں ملتی۔ اپنی زندگی پر اختیار ہے اور نہ موت پر بس چلتا ہے۔ یہ اللہ کی مرضی ہے اور اس کے اختیار میں ہے جب تک چاہے چلائے ، جب چاہے حیات کا اختام کر دے۔ دنیا عجیب و غریب واقعات سے پٹی پڑی ہے۔ ایسے میں ایک واقعہ میرے والدین کے ساتھ بھی پیش آیا ۔ شادی کے گیارہویں برس ایک روز آدھی رات کو گھر کے دروازے پر کسی نے دستک دی۔ والد صاحب کی اس دن طبیعت کچھ ٹھیک نہ تھی، انہیں کھانسی اٹھ رہی تھی، بار بار کھانے سے نیند اچٹ گئی تھی اور ان کی کھانسی کی وجہ سے میری والدہ بھی سو نہ پارہی تھیں۔ غرض کہ اس رات دونوں ہی جاگ رہے تھے۔ جب دو تین بار دستک ہوئی تو والدہ نے شوہر سے کہا۔ ذرا دیکھئے آدھی رات کے سے اس وقت کون آیا ہے. خدا خیر کرے۔ والد صاحب دروازے پر پہنچے اور پوچ...